10AM - 6PM

لاہور ہائیکورٹ کی جھوٹے مقدے درج کرانےوالوں کو بڑی وارننگ

0 Comments

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی چوری کے جھوٹے مقدے میں پھنسانے پر ہتک عزت کا دعوی مسترد کئے جانے کیخلاف تحریری فیصلہ  جاری کردیا، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں دورکنی بنچ کا نعیم احمد کی دیوانی اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں دورکنی بنچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے 8 صحفات پر مشتمل تحریری فیصلہ لکھوایا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں جس شخص پر الزام لگ جائے اسے گنہگار تصور کر لیا جاتا ہے، تقانون کی نظر میں ایک ملزم تب تک مجرم نہیں ہوتا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے، جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ کسی فرد کے عزت و وقار کیلئے ایک بڑا دھچکا ہوتا ہے۔جب قانون جھوٹے الزامات کے تحت حرکت میں آسکتا ہے تو کیا متاثرہ شخص کیلئے بھی داد رسی کا کوئی فورم موجود ہے؟

تحریری فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی شہری کی تضحیک کا سوال پیدا ہو تو فوری ذہن میں آتا ہے۔ہمارا قانون اچھائی پھیلانے اور برائی کو روکنے کی بات کرتا ہے، اچھائی کی ترویج ہی انسانی وقار کی بنیاد ہے۔آئین بھی شہریوں کی زندگی، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تقانون بنانے کا مقصد شہریوں کے وقار کا تحفظ اور جرائم کی روک تھام ہے، مشاہداتی مطالعہ کے مطابق لوگ جھوٹے مقدمات درج کروانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، مقدمہ  کے اخراج یا بریت کے باوجود بھی فرد معاشرے میں پہلے جیسا وقار اور عزت دوبارہ حاصل نہیں کر پاتا۔ایک بے گناہ فرد کو ساری زندگی اسی جھوٹے مقدمے کے بد نما دھبے کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *