قتل کی لرزہ خیز واردات

0 Comments

مالک کے ساتھ ملازم بھی قصور وار
اسلام آباد (ویب ڈیسک) : نور مقدم قتل کیس میں نور مقدم کے والد کے وکیل کا کہنا ہے کہ نور کو بے دردی سے قتل کرنے والے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ملازمین بھی اس کے ساتھ اس جُرم میں برابر کے شریک ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سما نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نور مقدم کے والد کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج نہ صرف مرکزی ملزم ظاہر جعفر بلکہ اُس کے ملازمین کے خلاف بھی اہم ثبوت ہے۔
یقین ہے کہ تمام ضابطے مکمل ہونے کے بعد عدالت سزا سُنائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کیس بہت مضبوط ہے۔ ٹھوس شہادتیں ہیں۔ ملزم سخت سے سخت سزا سے بچ نہیں پائے گا۔ شاہ خاور نے کہا کہ کیس درست سمت میں ہے، کوئی تاخیر نہیں ہو رہی۔ ضابطے کی تمام کارروائی مکمل ہونا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے میں رواں سال 20 جولائی کو نور مقدم کا قتل ہوا تھا۔

جب کہ 21 جولائی کو پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر کے اس کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ دو روز قبل نور مقدم قتل کیس کی پہلی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔ یہ فوٹیج مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر میں لگے کیمروں سے لی گئی تھی ۔ سامنے آنے والی فوٹیج کے ایک ویڈیو کلپ میں نور مقدم کو ملزم ظاہر جعفر کے گھر میں داخل ہوتے جبکہ دو ویڈیو کلپس میں نور مقدم کو جان بچانے کے لیے مکان کی پہلی منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے اور گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی جانب سے نور مقدم کو سکیورٹی گارڈ کے کیبن سے نکال کر گھر کے اندر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔